اسلام آباد : آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظمو پیپلزپارٹی آزادکشمیرکے مرکزی رہنماءبیرسٹر سلطان محمود چوہدری اوربرطانوی ہاﺅس آف لارڈز کے رکن و برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر کمیٹی کے چیئرمین لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ بہت جلدبرطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو باضابطہ طور پر اٹھایا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کو اس فیصلہ کن موڑ پر بین الاقوامی سطح پر جارحانہ انداز میں اٹھایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماﺅں نے گزشتہ روزاسلام آباد میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی طرف سے انکی رہائشگاہ پرلارڈ نذیر احمد کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے اس ظہرانے میں امریکہ، کینیڈا،برطانیہ، اسپین، فرانس، ناروے، بیلجیم سے آئے ہوئے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر دونوں رہنماﺅں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ برطانیہ سے مسئلہ کشمیرکو پورے یورپ اور انٹرنیشنل کمیونٹی میں اٹھایا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں پر کشمیریوں کی ایک بہت بڑی تعداد مقیم ہے اور پھر برطانیہ پر مسئلہ کشمیر حل کرانے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔کیونکہ برطانیہ کے نہ صرف امریکہ سے گہرے تعلقات ہیں بلکہ وہ یورپی یونین کا بھی اہم ممبر ہے۔اس موقع پر لارڈ نذیر احمد کا کہنا تھا کہ ہماری کوششوں سے چونسٹھ سال میں پہلی دفعہ برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہو ئی جس سے واضح ہو تا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے اب مسئلہ کشمیر پر توجہ دینا شروع کردی ہے اور ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر دوبارہ بحث کی جائے۔لارڈ نذیر احمد نے اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف بھی کی۔اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا کہنا تھا کہ لارڈ نذیر احمد نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ اور امریکہ میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کے لئے کوششیں کررہے ہیںجس پر ہم سب انکے مشکور ہیں۔انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرانے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر بھارت کی مزمت کے لئے بین الاقوامی سطح پر تحریک کو موثر بنانا ہو گا۔ہمیں بھارت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے پر واضح کرنا ہو گا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی بھارت کے منہ پر ایک بد نما داغ ہے۔ بھارت اس وقت تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکتا اور نہ ہی گلوبل ویلج میں اہم پلئیر کا کردار ادا کر سکتا ہے جب تک کہ وہ مسئلہ کشمیر حل نہیں کرتا۔ اس موقع پر لارڈ نذیر احمد نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو برطانوی پارلیمنٹ میں آنے کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کرلی ۔ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
