مظفرآباد : نائب امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر شیخ عقیل الرحمن نے کہا ہے کہ روٹی ،کپڑا،مکان کا نعرہ لگانے والوں نے عوام کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا ہے۔دُنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوئی لیکن یہاں پر اضافہ ہی کیا جا رہا ہے ،ذاتی مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کے لیے حکمران عوام پر ناروا ٹیکس لگا رہے ہیں۔عوامی حکومت کے دعویدا ر حکمران اپنے ذاتی مفادات کی خاطر عوام کو بنیادی ضروریات سے بھی محروم کر رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے یہاں وفد سے ملاقات میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں وی آئی پی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔آزاد کشمیر کا 80 فیصد بجٹ آزاد کشمیر کی بیورو کریسی اور وزراءکے پیٹ میں جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کا پورا خطہ آج بھی زلزلہ والی پوزیشن پر کھڑا ہے ۔انفراسٹرکچر جوں کا توں ہے۔شہر اسی طرح کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں،مہنگائی اپنے عروج پر ہے،گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔بجلی نام کی چیز ہی نہیں لوڈشیڈنگ نے نظام زندگی مفلوج،طلبہ و طالبات کا مستقبل تاریک کر دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا پشت پر منگلا ڈیم ہونے کے باوجود میرپور کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور دوسری طرف چھوٹی سی ریاست میں وزراءکی پوری فوج بھرتی کر کے عوامی ۔جو صرف اور صرف ریاست کے خزانے پر بوجھ ہیں۔آزاد کشمیر کے بجٹ کا 80 فیصدبیورو کریسی اور وزراءکے پیٹ میں جا رہا ہے اور عوام غریب سے غریب تر ہوتی جا رہی ہے۔حکمران عوام کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دیں اور انھیں حل کریں ورنہ عوام اب مزید محرومیاں برداشت نہیں کریں گے۔اگر حکمران اس خطے کے مسائل حل نہیں کر سکتے اور عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے تو انھیں حکمرانی کا کوئی حق نہیں وہ استعفے دے دیں۔ان کا مزےد کہنا تھا کہ عوام کو اب اپنے حقوق کے لیے بیدار ہونا چاہیے اور حکمرانوں کا احتساب کرنا چاہیے ۔جب تک بے عوام بیدار نہیں ہوں گے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے حکمران انھیں مختلف انداز سے لوٹتے رہیں گے ۔
