ممبئی حملے’ ریاستی حمایت‘ کے بغیر ممکن نہیں تھے: بھارت

بھارت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ 2008ء میں ممبئی  پرہونے والے حملے ’ریاستی حمایت ‘  کے بغیر ممکن نہیں تھے، اور  اُس نے طویل عرصے کے اپنے حریف پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے بھارت کے مالی مرکز  کومحصورکرنے   میں کردار ادا کیا۔

بھارتی حکام نے21جون کو بھارتی نژادشخص سید  ذبیح الدین کو گرفتار کیا جنھیں ابو حمزہ اور ابو جندال کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے، جن پر حملوں کی منصوبہ بندی  کا  شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ممبئی حملوں  میں 166افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ  ذبیح الدین  پاکستان میں قائم شدت پسند گروپ، لشکر طیبہ  کا ایک رکن ہے، جس تنظیم  پر حملوں کا الزام ہے۔

وزیر داخلہ پی چدم برم نے جمعے کو نئی دہلی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ تفتیش کے دوران  ذبیح الدین نےتسلیم کیا ہے کہ اُنھوں  نے حملہ آوروں کو پاکستان میں قائم ایک ’کنٹرول روم‘  میں  تربیت دی۔

چدم برم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ  اِس قسم کا کنٹرول روم کسی  ریاستی حمایت کےبغیرقائم نہیں ہو سکتا۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ  بھارتی حکام سمجھتے ہیں کہ لشکر طیبہ کے بانی، حافظ سعید اُس وقت  اِس کنٹرول روم میں موجود تھے۔

امریکہ نے  اطلاع دینے والے کوایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے جس  کی مدد سےحافظ سعید کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ حافظ سعید اکثرو بیشتر پاکستان میں امریکہ مخالف عوامی جلسوں سے خطاب کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے اِس ہفتے ممبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کسی امکان کو مسترد کرتے ہوئے اِسے بھارت کا’ پروپیگنڈا‘  قرار دیا اور بھارت سےکہا کہ وہ ذبیح الدین سےمتعلق کسی اطلاع سےپاکستان کو آگاہ کرے، تاکہ اُن کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔  ملک نے اس بات کو نمایاں کیا کہ ذبیح الدین بھارتی نژادشہری ہیں  اور یہ کہ اُنھوں نے ماضی میں چدم برم کو بھارت میں داخلی طور پر زور پکڑتی ہوئی انتہا پسندی کے بارے میں انتباہ جاری کیا تھا۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے  کہ حملوں کے وقت  ذبیح الدین پاکستان میں موجود تھا اور 10مسلح افراد کو ٹیلی فون پر ہدایات جاری کر رہا تھا، جنھوں نے 2008ء کے نومبر میں ممبئی کے  پُر تعیش ہوٹلوں، ایک یہودی مرکز، اور مسافروں سے کھچا کھچ بھری ایک ریل گاڑی پر حملہ کیا تھا۔

نو حملہ آور ہلاک  ہوگئے تھے۔ ممبئی کی ایک عدالت نے واحد زندہ حملہ آور کو موت کی سزا سنائی  ہے، جِن پر قتل، بھارت کے خلاف جنگ  کرنےاور دہشت گردی کے الزامات  ہیں۔

حملوں کے بعد  بھارت نےپاکستان کے ساتھ  امن  عمل کے مکالمے کو متعطل کردیا تھا،  جسے اب بھارت نے جاری کردیا ہے۔

سنہ 1947میں برطانیہ سے آزادی ملنے کے بعد سے دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک اب تک  تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔

بھارتی تجزیہ کار  بترا سنگھ نے جمعے کو وائس آف امریکہ کے دیوا  ریڈیو  سے بات  کرتے ہوئے  کہا  ہےکہ وہ نہیں سمجھتے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے تازہ ترین بھارتی الزامات کےباعث  دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی  بحالی کی طرف کی گئی پیش رفت متاثر ہوگی۔

What Next?

Recent Articles

One Pakistan - Pakistan News & General Entertainment Web Portal

Mobile RSS / Alerts Sitemap
Get Social with Us!

Use of this site is governed by our Terms and Privacy Policy | About | Copyright | Contact

© Onepakistan.com 2012. All rights reserved.