امریکی اخبارات سے: شام میں قیامِ امن کا خواب

اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ میں اقوامِ متحدہ کے سابق سربراہ اور شام کے لیے عالمی ادارے اور عرب لیگ کے متفقہ ایلچی کوفی عنان  کا ایک مضمون شائع ہواہے۔

اپنے مضمون میں کوفی عنان نے لکھا ہے کہ شام کی صورتِ حال انتہائی  خراب ہے جہاں گزشتہ موسمِ بہار میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے بعد سے اب تک  ہزاروں شہری ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ دیگر کئی ہزارسرکاری فورسز کی تحویل میں ہیں۔

سرکاری فورسز اور مسلح باغیوں کے مابین لڑائی کا سلسلہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک پھیلتے پھیلتے اب دارالحکومت دمشق  تک جاپہنچا ہے جب کہ شام میں لگی آگ کی تپش اب اس کے پڑوسی ممالک بھی محسوس کر رہے ہیں۔

کوفی عنان لکھتے ہیں کہ ان کی کوششوں سے رواں برس مارچ میں متحارب گروہوں نے ایک چھ نکاتی  معاہدے  پر اتفاق کیا  تھا جس کے تحت  فریقین نے جنگ بندی کرکے باہم مذاکرات شروع کرنے تھے۔ لیکن ان کے بقول بدقسمتی سے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور ابتدائی طور پر واجبی سی جنگ بندی کے بعد شام میں تشدد کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت مسلح اور غیر مسلح مظاہرین کے خلاف بدترین طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ساتھ ہی کوفی عنان حزبِ اختلاف سے بھی نالاں ہیں جو ان کے بقول متحد نہیں اور اس میں شامل بعض عناصر نے سرکاری فورسز اور تنصیبات کے خلاف حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

کوفی عنان نے لکھا ہے کہ یہ بحران شامیوں کا ہے اور اسے حل بھی انہی کو کرنا چاہیے۔ لیکن وہ لکھتے ہیں کہ یہ توقع عبث ہے کہ شامی عوام  اس بڑھتے ہوئے تشدد کو ختم کرکے ایک بامعنی سیاسی عمل شروع کرسکیں گے کیوں کہ ان کے بقول شام میں کئی بیرونی طاقتیں بری طرح ملوث ہیں اور عوام بے اختیار ہیں۔

کوفی عنان نے اپنے مضمون میں ان قوتوں کی نشاندہی کیے بغیر ان پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں امن کے لیے مثبت کردار ادا کریں اور فریقین کو یہ باور کرائیں کہ تشدد کا راستہ اپنانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

‘واشنگٹن پوسٹ’ میں کوفی عنان کا یہ مضمون ایک ایسے وقت میں شائع ہوا  ہے جب  اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور عرب لیگ کے بااثر ممالک کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہفتے کو جنیوا میں ہونے جارہا ہے جس میں شام کے بحران پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں ان ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے جو شامی حکومت یا حزبِ اختلاف پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنے مضمون میں کوفی عنان نے اجلاس میں شریک ہونے والے ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ شام کی صورتِ حال پر ایک ایکشن گروپ  تشکیل دیں جس کے اراکین شام میں قیامِ امن تک  مل کر کام کریں۔

مضمون میں کوفی عنان مزید لکھتے ہیں کہ اجلا س میں شریک ہونے والے ممالک  متفقہ طور پر شام میں حکومت کی تبدیلی کا ایسا طریقہ کار وضع کریں جس کی باگ ڈور خود شامی عوام کے پاس ہو۔

عنان کے بقول شامی عوام ایک ایسے جمہوری مستقبل کے حق دار ہیں جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے عین مطابق ہو اور جس میں تمام طبقات کے حقوق  کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اخبار ‘یو ایس اے ٹوڈے’ نے امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اوباما انتظامیہ کے منظور کردہ صحتِ عامہ کے قانون کو آئینی قرار دینے کے فیصلے کی تحسین کی ہے۔

اپنے ایک اداریے میں اخبار لکھتا ہے کہ  اس بحث سے قطعِ نظر کہ سپریم کورٹ کی رولنگ کے نتیجے میں کس کی سیاسی جیت ہوئی اور کس کی شکست، اچھی بات یہ ہے کہ اس تاریخی فیصلے سے لاکھوں عام امریکیوں کو فائدہ ہوگا۔

‘یو ایس اے ٹوڈے’ کے مطابق اس قانون سے ان لوگوں کا بھلا ہوگا جنہیں ان کی موجودہ بیماریوں کے باعث انشورنش نہیں دی جاتی۔ قانون سے ایسے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں گے جو کسی شدید بیماری کا شکار ہوکر اپنی ‘بیمہ پالیسی’ کے تحت دی گئی تمام سہولیات استعمال کرچکے ہیں اور اب اپنے علاج معالجے کے مزید اخراجات اپنی جیب سے نہیں دے سکتے۔ اور اس قانون کا فائدہ ان لوگوں کو بھی پہنچے گا جو کسی شدید بیماری کا شکا ر ہوجائیں تو انشورنش ایجنسیاں کسی تیکنیکی بنیاد پر ان کا بیمہ منسوخ کردیتی ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں ‘انشورنس’ کرنے والے اداروں  کے منفی ہتھکنڈوں کا خاتمہ ممکن ہوگا اور دیگر ترقی یافتہ قوموں کی طرح امریکہ میں بھی ہر شخص کو علاج کی یقینی سہولیات میسر آسکیں گی۔

لیکن ‘یو ایس اے ٹوڈے’ لکھتا ہے کہ عدالت کی جانب سے حق میں فیصلہ آنے کے باوجود ‘اوباما کیئر’ کے نام سے مشہور ہوجانے والے اس قانون کا مستقبل محفوظ نہیں ہے اور ری پبلکن اسے منسوخ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔

آئندہ صدارتی انتخاب میں ری پبلکن  کے امیدوار مٹ رومنی خبردار کرچکے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے پہلے ہی روز وہ اس قانون کو لپیٹ دیں گے۔ اخبار کے مطابق گو کہ یہ اچھی خبر ہے کہ اب اس قانون کا فیصلہ عدالتی احاطے میں نہیں بلکہ سیاسی میدان میں ہوگا، لیکن بہتر ہوگا کہ عدالتی فیصلے کے بعد مخالفین اپنی کوششیں قانون کی منسوخی کے بجائے اسے بہتر بنانے پر مرکوز کریں۔

What Next?

Recent Articles

One Pakistan - Pakistan News & General Entertainment Web Portal

Mobile RSS / Alerts Sitemap
Get Social with Us!

Use of this site is governed by our Terms and Privacy Policy | About | Copyright | Contact

© Onepakistan.com 2012. All rights reserved.